Sunday, 16 June 2013

شیعہ وروافض کا باپ أبو لؤلؤة الفارسي المجوسي لعنة الله علیه



أبو لؤلؤة الفارسي المجوسي ملعون اس کا نام " فيروز" تها اس لیئے اس کو الفيروزي بهی کہتے هیں ، یہ ملعون فارسي الأصل مجوسی غلام تها ، اسی ملعون نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کو شہید کیا ، 
شیعہ کی کتب میں اس ملعون مجوسی کو ( بابا شجاع الدين ) کے لقب سے یاد کیا جاتا هے ،

أبو لؤلؤة المجوسي ملعون نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کوکیوں شہید کیا ؟ 
شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله فرماتے هیں کہ أبو لؤلؤة باتفاق أهل الإسلام کافرمجوسی تها مجوسی وه لوگ هیں جوآگ کی عبادت کرتے هیں ، اس نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کوشہید کیا اسلام اور مسلمانوں سے شدید بغض کی وجہ سے ، اور مجوس و کفار کا انتقام لینے کی وجہ سے کیونکہ سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه نے ان کے بلاد کوفتح کیا اور ان کے رؤساء کوقتل کیا اور ان کے اموال کو تقسیم کیا ( منهاج السنة النبوية لابن تيمية )
الله تعالی نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کے سبب مسلمانوں کے لیئے 
بلاد فارس کوفتح کیا اور کفر کے ایوانوں میں اسلام کا جهنڈا لہرایا گیا ، لہذا اسی بغض وحسد کی وجہ سے أبو لؤلؤة مجوسی نے حضرت عمر رضي الله عنه کو شہید کیا ،


أبو لؤلؤة المجوسي ملعون کو شیعہ وروافض کیا سمجهتے هیں ؟
تمام شیعہ و روافض سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کی شہادت کے دن کو بہت بڑی عید کا دن سمجهتے هیں اور اس دن عید مناتے هیں ، اور حضرت عمر رضي الله عنه کے قاتل أبو لؤلؤة المجوسي الخبيث کو أفضل المسلمين یعنی مسلمانوں میں سب سے افضل وبہتر مسلمان کا لقب اس کودیتے هیں ، 
شیعہ کا شیخ نعمت الله الجزائری ملعون کہتا هے کہ " إن هذا يوم عيد وهو من خيار الأعياد " یہ عید کا دن هے اور یہ بہترین اور افضل عیدوں میں سے هے ، 
( الأنوار النعمانية للجزائري ) شیعہ کی دیگرکتب میں بهی یہی لکها هے ، 
یہ هے شیعہ کا عقیده سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کے متعلق ، 
أبو لؤلؤة المجوسي الخبيث کی قبر کہاں هے ؟

سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کی شہادت کا مختصر واقعہ اس طرح هے کہ آپ فجرکی نمازپڑهانے کے لیے تشریف لائے صفوں کوسیدها کرنے کاحکم دیا ، ابهی آپ نے تکبیر پڑهی تهی کہ پیچهے سے أبو لؤلؤة المجوسي الخبيث ملعون نے دو دهاری خنجرکے ساتهہ آپ کے اوپر حملہ کیا اور دائیں بائیں جوبهی آتا سب کومارتا گیا تقریبا تیره آدمیوں کوزخمی کیا جن میں سے نو شہید هوگئے صحابہ میں سے کسی نے أبو لؤلؤة ملعون پرچادر پهینک کراس کو پکڑ لیا تواس ملعون کوعلم هوگیا کہ اب میں توبچ نہیں سکتا لہذا خود هی اپنا گلا کاٹ کر همیشہ همیشہ کے لیئے جہنم رسید هوگیا ، 
اور سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه کا هاتهہ پکڑکرنمازکے لیئے آگے کیا ، مسجد کے کناروں میں جولوگ تهے ان کوابهی پورا علم نہیں تها اس واقعہ کا صرف یہ سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کی آواز بند هوگئ اور آپ سبحان اللّه سبحان اللّه پڑهہ رهے تهے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه نے هلکی سی نمازپڑهائ ، 
نمازکے بعد حضرت عمر رضي الله عنه ابن عباس رضي الله عنه سے کہا دیکهو میرے اوپرکس نے یہ وار کیا ؟ تو انهوں نے کہا مغیره کے غلام أبو لؤلؤة نے 
توآپ نے فرمایا الله اس کوهلاک کرے میں نے تواس کو اچهائ کا هی حکم دیا هے ، پهر فرمایا ( الحمد لله الذي لم يجعل ميتتي بيد رجل يدعي الإسلام )
تمام تعریفیں الله کے لیئے هیں کہ جس نے میری شہادت کسی مسلمان کے هاتهہ پرنہیں کی ،
اب أبو لؤلؤة المجوسي الخبيث ملعون آگ کے پجاری نے اپنے آپ کو اسی دن خود قتل کیا اور اسی دن جہنم رسید کیاگیا ، تو اس ملعون کی نعش ایران کے شہر کاشان کیسے پہنچ گئ ؟ اور وهاں اس کی جہنم کده کیسے بنائ گئ ؟ 
شیعہ جس کا حج وطواف وعبادت کرتے هیں ؟ کیا شیعہ سے بڑا بے وقوف وگمراه وملعون ومغضوب ومردود مذهب آپ نے کبهی دیکها یا سنا هے ؟

ایران میں اس ملعون کے جهوٹے من گهڑت مزار کی چند تصاویر ملاحظہ کریں
اور اسلام اور اهل اسلام اور صحابہ اور خصوصا سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه کے ساتهہ شیعہ کے باطنی بغض وعداوت وخبث کوملاحظہ کریں ، کہ کس طرح ایک مجوسی ملعون کو اپنا رب بنایا هوا هے کہ اس نے سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کو شہید کیا ۰












أؤلئك الذين لــعنـهم الله ومن يلعن الله فلن تجد له نصـــيرا

Shia rafzi ki mustanad kitab me Ahle biddat ki riwayat ki tadad(شیعہ مذهب کی مستند کتب میں اهل بیت کی روایات کی تعداد)

شیعہ مذهب کی مستند کتب میں 
اهل بیت کی روایات کی تعداد
ایـکـــــــــ تــحــقــیــقــــی جـــــــــــائــــزه

شیعہ مذهب کی مستند کتب میں اهل بیت کی روایات کا جائزه لیاجائے اور اس کے بالمقابل اهل سنت کی کتب میں اهل بیت کی روایات کودیکها جائے تو آپ کوعجیب وغریب تفاوت نظرآئے گا ، آل البيت کی احادیث جس پرشیعہ اپنے دین کی بنیاد کا دعوی رکهتے هیں ، روایات کے باب میں شیعہ مذهب کی مستند ومعتمد کتابیں چارهیں ، 
( الكافي .. من لا يحضره الفقيه .. التهذيب .. الاستبصار )
اور اهل سنت کی کتب حدیث وروایات بہت هیں لیکن چند یہ هیں ، 
(صحيح البخاري.. صحيح مسلم.. سنن الترمذي.. سنن النسائي..سنن أبي داود.. سنن ابن ماجه مسند أحمد.. سنن الدارمي). 

شیعہ مذهب کی کتب میں آپ صلى الله عليه وسلم کی روایات ۰ 
شیعہ کی روایات ان مذکوره بالا کتب میں تقریبا ( چوالیس 44 هزار ) یا کچهہ زیاده هیں ، اور ان ( چوالیس 44 هزار ) روایات میں آپ صلى الله عليه وسلم کی روایات کا مجموعہ ( چهہ سو چوالیس 644 ) روایات هیں ، 
اور عجیب بات یہ هے شیعہ مذهب کی مستند کتاب ( الکافی ) اور اس کی آٹهہ 8 جلدوں میں ( سولہ 16 هزار ) سے زائد روایات هیں ، لیکن اس میں آپ صلى الله عليه وسلم کی روایات تعداد صرف بیانوے ( 92 ) هے ، اگرچہ ان سب روایات کی اسانید میں اشکال واعتراض هے کیونکہ شیعہ کی روایات میں سب مجہول لوگ هوتے هیں ، خیرهمارا مقصد صرف روایات کا جائزه لیناهے ، باقی شیعہ روایات کا مبنی برکذب هونا ایک واضح چیز هے ،

شیعہ مذهب کی کتب میں حضرت فاطمة رضي الله عنها کی روایات ۰ 
شیعہ مذهب کی ان مذکوره چارمستند کتب میں حضرت فاطمة رضي الله عنها کی بالکل کوئ بهی روایت نہیں هے ، 
جب کہ اهل سنت کی مذکوره بالاکتب میں حضرت فاطمة رضي الله عنها کی گیاره ( 11روایات ) هیں ،
جن میں سے آٹهہ 8 روایات مسند الإمام أحمد میں هیں ،

شیعہ مذهب کی کتب میں حضرت علی رضي الله عنه کی روایات ۰ 
حضرت علی رضي الله عنه کی روایات کی تعداد شیعہ کتب میں چهہ سو نوے 
( 690 ) هے تقریبا ،
اور اهل سنت کی مذکوره بالا کتب میں حضرت علی رضي الله عنه کی روایات کی تعداد پندره سو تراسی ( 1583 ) هے ، جن میں سے صرف مسند الإمام أحمد
میں حضرت علی رضي الله عنه کی روایات کی تعداد آٹهہ سوچار ( 804 ) هے،
یعنی حضرت علی رضي الله عنه کی روایات کی تعداد جو مسند احمد میں موجود هیں وه شیعہ مذهب کی مذکوره بالا کتب سے زیاده هے ، 

شیعہ مذهب کی کتب میں حضرت حسن بن علی رضي الله عنهما کی روایات ۰

شیعہ مذهب کی ان مذکوره چارمستند کتب میں حضرت حسن رضی الله عنہ کی روایات کی تعداد اکیس ( 21 ) هے ،
اور اهل سنت کی مذکوره بالا کتب میں حضرت حسن رضی الله عنہ کی روایات کی تعداد پینتیس ( 35 ) هے ، جن میں سے اٹهاره ( 18 ) روایات مسند احمد میں موجود هیں ، 
روايات الحسين بن علي رضي الله عنه ۰ 
شیعہ مذهب میں حضرت حسین رضي الله عنه کے متعلق جومبالغہ آرائ اور غلو موجود هے وه کسی سے مخفی نہیں هے ، لیکن شیعہ نے ان سے صرف سات 
( 7 ) روایات نقل کی هیں ،
جب کہ اس جلیل القدر صحابی کی روایات اهل سنت کی کتب میں تینتالیس 
( 43 ) هے ، جن میں سے اٹهاره ( 18 ) روایات مسند احمد میں موجود هیں ،


دیگراهل بیت کی روایات کی تعداد اهل سنت کی کتب میں ۰

صحيح البخاري 
امام بخاری رحمہ الله نے زین العابدین رحمہ الله سے پچیس ( 25 ) احادیث روایت کیں ، اوراتنی روایات حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ کی بهی هیں
صحيح مسلم ۰ 
امام مسلم رحمہ الله نے زین العابدین رحمہ الله سے پندره ( 15 ) اورامام باقر رحمہ الله سے انیس ( 19 ) اور امام جعفرصادق رحمہ الله سے ستره ( 17 )احادیث روایت کیں ، اور سیدنا ابوبکرصدیق رضی الله عنہ سے نو ( 9 ) احادیث روایت کیں ۰ 
سنن الترمذي
امام ترمذی رحمہ الله نے امام باقر رحمہ الله سے تیئیس ( 23 ) اور امام جعفرصادق رحمہ الله سے بیس ( 20 ) احادیث روایت کیں ، اور سیدنا ابوبکرصدیق رضی الله عنہ سے بائیس ( 22 ) اور حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے انیس ( 19 ) احادیث روایت کیں ، لہذا اس حساب کے مطابق 
امام باقر رحمہ الله کی روایات سنن ترمذی میں زیاده هیں ۰ 
سنن النسائي 
امام نسائ رحمہ الله نے امام باقر رحمہ الله سے چهپن ( 56 ) اور امام جعفرصادق رحمہ الله سے چوالیس ( 44 ) احادیث روایت کیں ، اور سیدنا ابوبکرصدیق رضی الله عنہ سے بائیس ( 22 ) اور حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے ستائیس ( 27 ) احادیث روایت کیں ۰ 
سنن أبي داود 
امام ابوداود رحمہ الله نے امام باقر رحمہ الله سے ستره ( 17 ) اور زین العابدین رحمہ الله سے گیاره ( 11 ) اور امام جعفرصادق رحمہ الله سے بهی گیاره ( 11 )
احادیث روایت کیں ، اور سیدنا ابوبکرصدیق رضی الله عنہ سے گیاره ( 11 ) اور سیدنا عثمان رضی الله عنہ سے پندره ( 15 ) احادیث روایت کیں ، لہذا اس اعتبارسے امام باقر رحمہ الله کی روایات زیاده هیں ۰ 
سنن ابن ماجه 
امام ابن ماجہ رحمہ الله نے امام باقر رحمہ الله سے چوبیس ( 24 ) اور امام جعفرصادق رحمہ الله سے انیس ( 19 ) اور سیدنا ابوبکرصدیق رضی الله عنہ سے سولہ ( 16 ) اور سیدنا عثمان رضی الله عنہ سے تیئیس ( 23 ) احادیث روایت کیں ۰ 
لهذا اهل سنت کی کتب میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی الله عنہ کی مجموعہ روایات دو سو دس ( 210 ) هے ، اورامام باقر رحمہ الله کی مجموعہ روایات دو سو انتیس ( 229 ) هے ۰



حاصل کلام یہ هے کہ شیعہ کا اهل بیت کے ساتهہ محبت وعقیدت کا دعوی جهوٹا هے اور جو کچهہ جهوٹ شیعہ نے اهل بیت کی طرف منسوب کیا هے اهل بیت اس سے بری هیں ، اور اهل بیت کے ساتهہ حقیقی محبت وعقیدت رکهنے والے اهل سنت هی هیں ، مذکوره بالا تفصیل سے یہ واضح هوگیا کہ اهل بیت کے ساتهہ شیعہ کا کتنا تعلق هے اور اهل سنت کا کتنا تعلق هے ، اور اس سے شیعہ کا یہ الزام بهی دور هوگیا کہ اهل سنت معاذالله اهل بیت رسول کے دشمن ومخالف هیں ۰

Aimma Arba rahimulla k baare me Shia k aqeede (أئمه أربعه رحمهم الله کے بارے میں شیعہ کا عقیده)





مشہور شیعہ عالم نعمت الله الجزائری کہتا هے کہ احمد بن حنبل احمق ( بے وقوف ) هے ، معاذالله

مشہور شیعہ ملعون البحرانی کہتا هے کہ امام شافعی رحمہ الله ابن زنا تهے 
معاذالله 

مشہور شیعہ ملعون الحلی کہتا هے کہ مذاهب اربعہ بدعت هیں


نعمت الله الجزائری کہتا هے کہ مذاهب اربعہ باطل هیں ،

ملعون شیعہ البحرانی نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ الله کے متعلق اتنا غلیظ ترین بکواس کیا هے کہ میں اس کا ترجمہ نہیں لکهہ سکتا ، عربی سمجهنے والے اس کوجان لیں گے ،

شیعہ یہ نظریہ رکهتے هیں امام احمد بن حنبل رحمہ الله خوارج میں سے تهے 
معاذالله 

ملعون شیعہ البحرانی نے امام شافعی رحمہ الله پر ایک نظم کی صورت میں لعن طعن اور سب وشتم کیا هے ، 

شیعہ کے نزدیک مذاهب اربعہ غلط وباطل هیں ،

شیعہ کے نزدیک مذاهب اربعہ کتاب وسنت کے مخالف وبدعت هیں 

شیعہ کے نزدیک ائمہ اربعہ ( امام ابوحنیفہ امام شافعی امام مالک امام احمد بن حنبل رحمہم الله ) رسول صلی الله علیہ وسلم کے دشمن و مخالف هیں اصول وفروع میں ، اور ان کے مذاهب باطل هیں ۰ معاذالله 

شیعہ مذهب کا مشہور ملعون الکُلینی امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ الله پر لعنت کرتا هے ، معاذالله 


شیعہ مذهب کے مستند کتب کے چند حوالے ائمہ اربعہ اوران کے مذاهب حقہ کےبارے آپ نے ملاحظہ کرلیئے ،
شیعہ کا سارا مذهب اسی طرح کے لعن طعن کذب وجهوٹ وخرافات وضلالات کا مجموعہ هے ، 
بدقسمتی سے هندوستان میں ایک نیا فرقہ اهل حدیث کے نام سے پیدا کیاگیا ائمہ اربعہ اوران کے مذاهب حقہ کے بارے میں وه بهی شیعہ سے ملتا جلتا نظریہ رکهتے هیں جیسا کہ اهل نظر حضرات خوب جانتے هیں ۰

Shia ka Kufr wa Shirk (شیعہ کا کفر وشرک وضلال)




1 ۰ ایک شیعہ مجوسی احمد الاحسائ کہتا هے کہ حضرت علی رضی الله عنہ 
جبریل علیہ السلام کو تعلیم دیتے هیں ، الله کی عبادت کے بارے میں اور حتی کہ اس کے نام کے بارے میں ، اور وحی تمام انبیاء پر اسی کے واسطہ سے نازل هوتی هے ۰ 

2 ۰ کہتا هے کہ علی رضی الله عنہ الله تعالی کے یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم سے بہت بڑے هیں ، ( معاذالله 

3 ۰گمراهی و غُلو کی انتہاء ،
یہ مجوسی کہتا هے کہ علی رضی الله عنہ دابة ُالارض هے ،
معاذالله ـ



4 ۰ علی ابن طالب رضی الله عنہ رعد وبرق ( یعنی بجلی کی چمک اورکڑک )
اور چاند کی سیاهی هیں ، معاذالله 

5 ۰ علی رضی الله عنہ بادلوں کو بهیجتا هے ، معاذالله 

6 ۰ شیخ مفید شیعہ مذهب کا ایک بڑا گرو هے کہتا هے کہ علی رضی الله عنہ کو جبریل علیہ السلام اپنے ساتهہ آسمان پراٹها کرلے گئے کیونکہ فرشتوں کی ایک جماعت کا آپس میں جهگڑا هوگیا تها ، توانهوں نے آدمیوں میں سے کوئ فیصلہ کرنے والا مانگا ، الله تعالی نے فرشتوں کی طرف وحی کی کہ آدمیوں میں سے کسی پسند کرلیں لہذا انهوں نے علی رضی الله عنہ کوپسند کرلیا ، 
( توبہ معاذالله ، سارے شیعہ مذهب کی بنیاد اسی قسم کی من گهڑت قصوں کہانیوں پرمشتمل هے )

7 ۰ مَجلسی کہتا هے کہ انبیاء علیہم الصلاه والسلام ائمه کے ساتهہ توسل کرتے هیں ، یعنی شیعہ کے 12اماموں کا وسیلہ پکڑتے هیں ۰ معاذالله 

8 ۰ شیعہ مذهب میں علی رضی الله عنہ رب کے درجہ پر ، معاذالله


9 ۰ شیعہ کا ایک ملعون نظریہ یہ بهی هے کہ جب غائب ( من گهڑت ) امام باهر نکلے گا تو شیخین ( حضرت ابوبکر وحضرت عمر رضی الله عنہما ) کو باهر نکال کر سُولی پرلٹکائے گا ، معاذالله 

10 ۰ شیعہ مذهب میں حضرا ت خلفاء ثلثہ ( حضرت ابوبکر وحضرت عمر وحضرت عثمان رضی الله عنہم ) پرلعنت کرنے کی دعا ، معاذالله 

11 ۰ شیعہ کا ایک ملعون نظریہ یہ بهی هے کہ جب غائب ( من گهڑت ) امام باهر نکلے گا تو حضرت عائشہ رضی الله عنہا پرحد لگائے گا جیسا کہ ان کا باپ باقرمجوسی اپنی کتاب میں یہ بکواس کرتا هے
، معاذالله 
نقل کفرکفرنباشد ۰


12 ۰ شیعہ خبیث مذهب میں لعنت پرمبنی ایک خاص دعا کی جاتی هے جس کا نام هے ( دعاء صنمي قريش ) یعنی قریش کے دوبتوں پرلعنت کی دعا 
اور دوبتوں سے مراد ( سیدنا صدیق اکبراور سیدناعمر رضی الله عنہما ) کولیتے هیں ، معاذالله 
نقل کفرکفرنباشد ۰



صحابه کرام رضی الله عنہم اجمعین کے دشمنوں پرالله تعالی لعنت هو ۰
میں کیوں لعنت نہ کروں ایسے لوگوں پر جب کہ خاتم المعصومین صلی الله علیہ وسلم کے لسان مبارک سے بهی ایسے ملعون لوگوں کے لیئے لعنت هی نکلی هے ، 
قال عليه الصلوة والسلام لَعَنَ الله مَن سَبَّ أصحابي رواه الطبراني فى الكبير عن إبن عمر رضى الله عنه والحديث حسن وقال عليه الصلوة والسلام مَن سَبَّ أصحابي فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين رواه الطبراني فى الكبير


شیعہ کے نزدیک نبی صلی الله علیہ وسلم حضرت علی رضی الله عنہ سے زیاده شجاع وبہادر نہیں تهے ، معاذالله

شیعہ کا یہ بهی عقیده هے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو حضرت عائشہ وحضرت حفصہ رضی الله عنہما کو زهر پلا کرقتل کیا هے ، معاذالله 

شیعہ کی مستند کتاب ( فروع کافی ) میں هے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم یوم النحر کے دن اونٹ پربیٹهہ کرمدینہ کی طرف گئے اور آپ کا جسم ننگا تها ،
معاذالله 

شیعہ کا حضرت عائشہ رضی الله عنہا پرتہمت وبہتان ، معاذالله 

کیا شیعہ کا یہ بہتان آپ صلی الله علیہ وسلم کی عزت وحرمت وناموس پرحملہ نہیں هے ؟ اور دعوی اهل بیت سے محبت کا کرتے هیں


شیعہ مذهب کا امام باقرمجوسی روزه کی حالت میں چرس پیتا تها 

شیعہ کے نزدیک کربلا کعبہ سے افضل هے ، معاذالله 

شیعہ کے نزدیک کربلا کی زمین کو الله تعالی نے کعبہ کی زمین سے چوبیس هزارسال پہلے پیدا کیا ، 

شیعہ کا عقیده هے کہ همارے ائمہ انبیاء علیہم الصلاة والسلام سے بڑے عالم هیں ، معاذالله 

شیعہ مذهب ميں اهل اسلام کی غیبت اور لعن طعن وسب وشتم جائزهے 

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا پر باقرمجوسی کی طرف سے خیانت کا تہمت والزام ، معاذالله 

شیعہ مذهب میں جوکچهہ الله تعالی کی طرف منسوب هے وهی ائمہ کی طرف بهی منسوب هے 

شیعہ مذهب میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا اورحضرت معاویہ رضی الله عنہ دین اسلام سے خارج هیں ، معاذالله 

باقرمجوسی اپنی کتاب ( بحارالانوار ) میں کہتا هے کہ اهل سنت زنا کی اولاد هیں ، معاذالله 

شیعہ مذهب کا ایک بڑا گرو شیخ مفید کہتا هے کہ امامت کا منکر همیشہ جہنم میں رهے گا ، معاذالله 

شیعہ کا عقیده هے کہ امام غائب جب نکلے گا تو مسجد حرام اور مسجد نبوی کوگرائے گا ، معاذالله 

شیعہ کا عقیده هے کہ امام غائب یوم النیروز ( مجوسیوں کی عید ) کے دن ظاهر هوگا اور دجال کوقتل کرے گا ، 
شیعہ کی تمام کتب اس طرح کے انٹرنیشنل جهوٹ سے بهرے هوئے هیں ۰

شیعہ مذهب میں اهل سنت والجماعت مسلمانوں کو ناصبی کہا جاتا هے ، اور یہ کہ ان کے اموال لوٹنا اور خون بہانا حلال هے ، معاذالله 
اندازه لگائیں شیعہ کے باطنی خبث کا اور یہ بات ان کی مستند کتب میں هے ، 
الله تعالی ان کے شرور سے اهل اسلام کو محفوظ رکهے ۰

Shia Mazhab aur Mutah (شیعہ مذهب اور مُتعہ)



مُتعہ زنا کا دوسرا نام هے ، اور دین اسلام نے ان تمام ذرائع ووسائل کو ممنوع وحرام قرار دیا جو زنا کی طرف لے جانے والے هوں کیونکہ دین اسلام طہارت وعفت کا دین هے لہذا زنا کے قریب جانے کوبهی اسلام نے حرام قرار دیا ، اس کے برخلاف شیعہ مذهب میں مُتعہ ( زنا ) صرف جائز وپسندیده هی نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت هے ، لهذا شیعہ کی مستند کتب سے چند حوالے پیش کروں گا عاقل وسمجهدار خود هی فیصلہ کرلے کہ کیا شیعہ مذهب کو کوئ حیوان بهی قبول کرسکتا هے چہ جائیکہ انسان جو اشرف المخلوقات هے اس غلیظ وخبیث مذهب کوقبول کرے ۰ 
1 ۰ خمینی ملعون کہتا هے کہ دودهہ پیتے بچی کے ساتهہ بهی متعہ جائز هے ،
اور عورت سے متعہ پیچهے کی طرف سے بهی جائز هے ۰ ( معاذالله 


2 ۰ شیعہ مذهب میں زانیہ عورت سے بهی مُتعہ جائز هے ، ( معاذالله 

3 ۰ شیعہ مذهب میں متعہ کا ثواب ،
متعہ کرنے والی عورت سے هربات کرنے پر ایک نیکی لکهی جاتی هے اور جب اس کے قریب جاتا هے تو الله اس کے گناه معاف کردیتا هے ، جب غسل کرتا هے توبالوں کی تعداد کے برابر الله اس کی بخشش کردیتے هیں ۰ 
( معاذ الله نقل کفرکفرنباشد 


5 ۰ شیعہ مذهب میں گهروں میں کام کرنے والی خادمہ سے بهی متعہ جائز هے ،
معاذالله 


6 ۰ شیعہ مذهب کے مشہور عالم نعمت الله الجزائری اور مُتعہ و لواطت ،


نیچے اصل کتاب کے عکس میں جوکچهہ لکها هے میں اس کا ترجمہ نہیں لکهہ سکتا ، (

معاذالله



7 ۰ شیعہ مذهب میں شادی شده عورت سے بهى متعہ جائز هے ، 
( معاذالله


8 ۰ شیعہ مذهب اور اجتماعی مُتعہ 
درج ذیل عکس موجوده دور کے ایک شیعہ عالم کا فتوی هے ، جس میں وه اجتماعی متعہ کوجائزقرار دیتا هے اور کہتا هے کہ متعہ همارے مذهب میں حلال ومبارک هے ۰ (معاذ الله 

9 ۰ شیعہ مذهب میں مجوسی عورت کے ساتهہ بهی مُتعہ جائز هے ،

10 ۰ شیعہ مذهب میں عورت کے ساتهہ پیچهے کی طرف سے بهی متعہ جائزهے اگر عورت کا روزه هو تو نہ اس کا روزه ٹوٹتا هے اور نہ اس پرغسل فرض هے ، ( معاذ الله 

بغرض عبرت چند حوالے متعہ کے بارے میں شیعہ کی مستند کتب سے میں نے پیش کیئے هیں ، اور متعہ کے بارے میں شیعہ کتب میں عجیب وغریب مسائل لکهے هیں جس کوپڑهنے کے بعد یہ یقین هوجاتا هے کہ شیعہ مذهب میں زنا ، فحاشی ، عریانی ، بے حیائ ، بے راه روی کی جتنی تعلیم وترغیب دی گئ هے 
مذاهب باطلہ میں سے کسی بهی مذهب میں اتنی نہیں دی گئ ۰